کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ!
(۱) کیا اسٹیٹ بینک کے اسٹاکس ڈپارٹمنٹ میں کام کرنا جائز ہے؟ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ایک ڈپارٹمنٹ ہے جس میں شماریات والوں کو لیا جاتا ہے وہ لوگ مختلف قسم کی معلومات جو نمبر کی شکل میں ہوتے ہیں اور جو کہ مختلف بینک سے آتے ہیں ، انہیں انالائنز کرتے ہیں کہ کس بینک کی کارکردگی اچھی جارہی ہے اور کس بینک کی خراب، سارے بینک اسٹیٹ بینک کی زیر نگرانی چلتے ہیں ، انہیں اسٹیٹ بینک کی پالیسیز کو ماننا ہی پڑتا ہے ، یہاں تک کہ میزان بینک بھی اسٹیٹ بینک سے ملحق ہے ، اس کے علاوہ اور بھی بہت طرح کی ریسرچ کرتے ہیں جن میں بینک کے ساتھ جنرل ایکنامکس ایشوز بھی آتے ہیں ، ملازم اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہی کے ہوتے ہیں ، تنخواہ بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہی دیتا ہے ، برائے مہربانی یہ بتائیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں؟
(۲) اور میزان بینک جو سنا ہے کہ مفتی تقی عثمانی صاحب کی زیرِ نگرانی چل رہا ہے ، کیا یہ سود سے پاک ہے؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی جزا دے۔ شکریہ
(۱) یاد رہے کہ اگر سائل کو معلوم ہے کہ میرے اس اسٹاکس ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے سے سود کی کسی درجہ میں بھی ، براہِ راست معاونت ہو رہی ہے ، تو یہ بالکل ناجائز اور حرام ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ:
’’لعن رسول اﷲ ﷺ اٰکل الربوٰ و موکلہ و کاتبہ و شاہدیہ و قال ہم سواء‘‘۔(مسلم شریف: ج۲، ص۲۷)یعنی رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے اور سود دینے والے اور سودی تحریر لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں ، اور ایسی ملازمت سے آنے والی آمدنی بھی حرام ہے، لیکن بینک کی وہ ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے نہیں نہ ان کا تعلق سود لکھنے سے ہے نہ سود پر گواہ بننے سے ہے اور نہ سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت ہوتی ہے تو ایسی ملازمت اور اس سے ملنے والی آمدنی کے متعلق علماءِ کرام کی آراء مختلف ہیں ، ایک رائے یہ ہے کہ ایسی ملازمت بھی جائز نہیں جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں ، کیونکہ ایسے ملازمین کا اگرچہ سودی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ، لیکن انہیں جو تنخواہ دی جاتی ہے وہ ان رقوم کے مجموعہ سے دی جاتی ہے جو بینک میں ہوتی ہیں اور اس میں سود بھی شامل ہے اس لئے ایسی ملازمت بھی جائز نہیں، جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بینک کی صرف ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں یہ جائز ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملازمین کو جو تنخواہ دی جاتی ہے وہ اگرچہ ان رقوم کے مجموعہ سے دی جاتی ہے جو بینک میں ہوتی ہیں ، لیکن موجودہ رقوم ساری کی ساری سود کی نہیں ہوتیں ، بلکہ اس میں کئی قسم کی رقمیں مخلوط ہوتی ہیں یعنی وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو لوگوں نے اپنے کھاتوں میں جمع کروائی ہوتی ہیں یعنی بینک نے جو رقم قرض کے طور پر لی ہوئی ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بینک کے مالکان کا اصل سرمایہ ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بطورِ سود کے حاصل کی گئی ہیں لیکن بینک میں جمع شدہ ان رقوم میں اکثر رقوم حلال ہوتی ہیں ، لہٰذا اگر اس مجموعی مخلوط رقم سے ایسے ملازم کو تنخواہ دی جاتی ہے جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، تو اس کیلئے ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ حرام نہیں البتہ بہتر یہی ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت بھی اختیار نہ کی جائے۔
(۲) میزان بینک اگرچہ دوسرے مروّج بینکوں سے بہتر اور شریعتِ مطہرہ کے قریب تر ہے مگر اس نظام کو چلانے والے افراد اصولِ شرعیہ سے ناواقفیت کی بناء پر عموماً ان معاملات اور فارمولوں کو بجالانے میں غلطی کرتے ہیں جو دراصل ضابطے کی خرابی اور غلطی نہیں بلکہ متعلقہ فرد کی ناسمجھی اور غلطی ہوتی ہے جس کی بناء پر ، انجام دیا جانے والا معاملہ بھی اکثر ناجائز ہوجاتا ہے ، اس لئے اس کو ربوٰ سے پاک قرار دینے میں مشکل پیدا ہوتی ہے البتہ اگر کوئی ملازم اصولِ شرعیہ سے واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے کسٹمر کے ساتھ بھی جائز معاملہ کرے تو یہ بلاشبہ شرعاً بھی جائز کہلائے گا۔
واﷲ اعلم وعلمہ اتم و احکم
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0